ابنا: اتحاد و تقریب کا عالمی ادارہ"المجمع التقریب بین المذاھب اسلامی " کے سابق سربراہ اور قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے ثقافتی ا ور عالم اسلام سے متعلقہ امور کے مشیر حضرت آیت اللہ تسخیری نے عمان میں اسلامی حکومت کے نئے اور پائیدار منصوبہ کے زیر عنوان منعقدہ کانفرنس میں پائدار اسلامی معاشرہ میں آئین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ پائدار اسلامی معاشرہ صرف ملک کا آئين قرآن اور سنت نبویﷺ پر مبنی ہونے کے باعث ممکن ہے۔
آیت اللہ محمد علی تسخیری نے اردن کے دارالحکومت عمان میں ’اسلامی حکومت کا نیا اور پائدار منصوبہ‘ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس کے دوسرے روز مندوبین سے خطاب کیا، جس میں آپ نے کہا:
ایران کا آئین اسلام پر مبنی اور اس امر کا غماز ہے کہ ایرانی عوام زندگی کے مختلف شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا من و عن نفاذ چاہتے ہیں۔
آپ نے مزید کہا:اگر ہم اجمالی طور پر ہی یہ دیکھیں کہ ایرانی عوام کے ہاتھوں لایا گیا انقلاب کن کن مرحلوں سے ہوتا ہوا کامیابی کی منزل تک پہونچا ہے تو ہم یہ درک کر لیں گے کہ طاغوتی (شیطانی) حکومت کے محلوں کو لرزہ براندام کرنے والے ایرانی عوام کے انقلاب کا مقصد صرف اس اسلامی ملک میں احکام الٰہی کا نفاذ رہا ہے۔
آیت اللہ تسخیری نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ایران کا انقلاب مکمل طور پر اسلامی ہے اور اس کی پشت پر کبھی بھی معاشی اور سیاسی محرکات کارفرما نہیں رہے۔چنانچہ اسی لئے اس انقلاب کا مقصد احکام قرآنی کا نفاذ اور اصلی محمدی اسلام پر عمل ہے۔
واضح ہو کہ اردن کے ’شاہی اہل بیت ع اسلامی فکری مرکز‘ کا سولہواں اجلاس ’ اسلامی حکومت کا نیا اور پائدار منصوبہ‘ کے موضوع پر پیر کو اردن کے دارالحکومت عمان میں شروع ہوا۔ جس میں ایران سمیت دینا کے تینتیس (۳۳) ممالک کے مفکرین نے شرکت کی۔’اسلامی حکومت کا مفہوم‘،’ شہری معاشرہ‘،’ اسلامی اور مغربی نقطۂ نظر سے انسانی حقوق‘، ’ امتیازات اور مشترکات‘ اور’اسلامی حکومت کے قیام کا پائدار منصوبہ‘اجلاس کے اہم ترین موضوعات اعلان کئے گئے ہیں۔
.......
/169